مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل علی محمد نائینی نے جنگ کے تیسرے ہفتے کے آغاز پر موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے ان دعوؤں کو مسترد کیا جن میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کے خاتمے اور اپنی کامیابی کا ذکر کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے اس جنگ کا آغاز اس اندازے کے ساتھ کیا تھا کہ اگر ایران کی اعلی قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا، حکومتی ڈھانچہ کمزور پڑ جائے گا اور معاشرے میں انتشار پھیل جائے گا۔ دشمن کو توقع تھی کہ اس صورت حال سے حکومت مخالف عناصر کو حوصلہ ملے گا اور ملک کے اندر بدامنی اور افراتفری پیدا ہوجائے گی۔
جنرل نائینی کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کا اندازہ تھا کہ یہ ایک مختصر اور محدود جنگ ہوگی اور یہ کسی صورت خطے میں پھیلنے والی یا طویل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگی۔ دشمن کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ ایران کے اندر تیزی سے بدامنی پیدا کی جائے اور پھر عالمی اور علاقائی اتحاد بنا کر ایران پر دباؤ بڑھایا جائے۔
سپاہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ان منصوبوں اور اندازوں سے متعلق تمام دستاویزات موجود ہیں اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں خود مخالف فریق نے بھی ان باتوں کا اعتراف کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ایران نے اپنے نظام اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھا اور قیادت کے تسلسل کے ساتھ مزاحمت اور استقامت کا پیغام دیا، جس کے باعث دشمن کے کئی اندازے غلط ثابت ہوئے۔
آپ کا تبصرہ